مجھے تو درد کا چہرا دکھائی دیتا ہے
بتا، تجھے بھی کچھ ایسا دکھائی دیتا ہے؟
یہ کیا کہ سر کو جھکا کر ہم اپنی عمر جئیں
وہ آسماں ہے، تو اونچا دکھائی دیتا ہے
میں کیوں کہوں کہ اندھیرا ہے سب مرے اندر
ذرا سا دل میں اجالا دکھائی دیتا ہے
تماشا گر ہے عجب، روپ ہیں ہزار اس کے
وہ ایسا ہے نہیں ، جیسا دکھائی دیتا ہے
سمندروں سے بھی گہرے دلوں میں اترا ہوں
وہاں بھی پیاس کا صحرا دکھائی دیتا ہے
طارق بٹ
Set as favorite
Bookmark
Email this
Hits: 244
Trackback(0)
TrackBack URI for this entryComments (0)
Subscribe to this comment's feedWrite comment
You must be logged in to post a comment. Please register if you do not have an account yet.




