اس علاقے میں دل ستاں ہے کون
تو نہیں ہے، تو پھر یہاں ہے کون
کس کی لو سے دمک رہا ہوں میں
تو نہیں ہے، تو میری جاں! ہے کون
آپ ہر دل میں جا دھڑکتا ہے
حرفِ سادہ کا ترجماں ہے کون
بات کو چاہیے لبِ اظہار
راز کیا چیز، راز داں ہے کون
خواب، یا خواب دیکھنے والا
آپ اپنے میں، اک گماں ہے کون
عافیت اپنی ہو جہاں مخدوش
پوچھئے کیا کہ بے اماں ہے کون
اپنی آغوش میں لیے مجھ کو
یہ زمیں زیرِ آسماں ہے کون
میں جو ناراض ہوں، تو خود سے ہوں
زندگی! تجھ سے سرگراں ہے کون
درد کی گرد بیٹھتی ہی نہیں
دیکھئے کیا، یہ کارواں ہے کون
کہہ دیا تھا، بُجھا نہ دل کا چراغ
دیکھ لے اب دھواں دھواں ہے کون
طارق بٹ
Set as favorite
Bookmark
Email this
Hits: 206
Trackback(0)
TrackBack URI for this entryComments (0)
Subscribe to this comment's feedWrite comment
You must be logged in to post a comment. Please register if you do not have an account yet.




